ذات حق

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - اللہ تعالٰی کی ذات۔  سراپا زخم ہوں تیغ زبان یار سے لیکن نہیں ملتا ہے مثلِ ذاتِ حق مسۂ زخمِ پنہاں کا      ( ١٨٥٩ء، دفترِ بے مثال، ٩٠ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم جامد 'ذات' کو کسرۂ اضافت کے ذریعے عربی ہی سے مشتق اسم 'حق' کے ساتھ ملانے سے مرکب اضافی بنا۔ (ذات مضاف الیہ اور حق مضاف)۔ اردو میں بطور اسم فاعل استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٨٥٩ء کو "دفترِ بے مثال" میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مؤنث